
جنیوا: بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں سیشن (UNHRC 62) کے ایک ذیلی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری تبدیلیٔ مذہب صرف مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ طاقت، جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو اغوا، زبردستی مذہب تبدیل کرانے اور جبری شادیوں کا سامنا ہے، جبکہ ان کے خاندان انصاف کے حصول میں مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق جب متاثرہ خاندان پولیس یا عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں اور پنجاب میں مسیحی برادری کو مذہبی بنیادوں پر تشدد، گرجا گھروں پر حملوں اور گھروں کو جلائے جانے جیسے واقعات کا سامنا رہا ہے، جنہیں انہوں نے مذہبی منافرت، ریاستی ناکامی اور سزا سے استثنیٰ کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین کو صنفی تشدد کے ساتھ ساتھ عسکریت، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور ریاستی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بلوچستان پر قبضے کے بعد سے اس خطے کو سیاسی، ثقافتی اور فوجی جبر کی ایک طویل مہم کا نشانہ بنایا ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین نے کہا کہ جب کسی بلوچ شخص کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے تو اس کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی برسوں تک انصاف کے لیے احتجاج کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست سیاسی کارکنوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے خاندانوں، خصوصاً خواتین، کو استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف دو ہفتے قبل ان کی بہن کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا گیا، جسے انہوں نے ریاستی دباؤ کی بدترین مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ صرف سیاسی کارکن نہیں بلکہ پورے خاندان کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ یہی طرزِ عمل جبری تبدیلیٔ مذہب، جبری بیانات، جبری خاموشی اور جبری اطاعت جیسے اقدامات کی بنیاد بنتا ہے، جس کے تحت کمزور طبقات، خواتین، اقلیتوں اور مظلوم قوموں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی خواتین اور بلوچ خواتین کی جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ ایک کو مذہب کے نام پر اور دوسری کو قومی سلامتی کے نام پر نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم دونوں کو آزادی، وقار اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ہیں، جنہوں نے جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کی آواز بلند کی۔ ان کے مطابق انہیں سزا دینا انصاف نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرہ تاریخی طور پر مذہبی رواداری، بقائے باہمی اور اقلیتوں کے احترام کی روایت رکھتا ہے، جہاں ہندو اور سکھ برادریاں معاشرے کا قابل احترام حصہ رہی ہیں۔ ان کے مطابق بلوچ ثقافت میں مختلف عقائد کے احترام کو اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ جبری تبدیلیٔ مذہب، جبری شادیوں، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور بلوچ خواتین و خاندانوں کے خلاف مبینہ مظالم کا نوٹس لیا جائے۔
انہوں نے اقلیتی خواتین کے مکمل تحفظ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، آزادانہ تحقیقات اور بلوچ خواتین کی آواز کو عالمی سطح پر سننے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم ایک ایسے مستقبل پر یقین رکھتی ہے جہاں ہر فرد کو مذہب، صنف، زبان یا قومی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی انسانیت کی بنیاد پر عزت دی جائے، اور ایک ایسا بلوچستان قائم ہو جہاں خواتین آزاد، اقلیتیں محفوظ اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔

