
کوئٹہ: افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر داعش کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
طالبان وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت کے مطابق سرانان، قمبرخیل اور چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے مبینہ طور پر افغانستان میں حملوں اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں داعش سے وابستہ عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا اور حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع پشین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈرون گرنے اور دھماکوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق سرانان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض مقامات پر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 30 جون کو افغان سرحد سے آنے والے چار ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا اور کسی بڑے نقصان سے بچا لیا۔

