
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج 6210ویں روز میں داخل ہوگیا۔ اس موقع پر نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مرکزی آرگنائزر ایڈوکیٹ شاہ زیب بلوچ نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
انہوں نے جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
آج کے احتجاجی کیمپ میں شاہد احمد کرد کے بھائی لونگ خان اور نور محمد کرد کے والد حضور بخش نے بھی شرکت کی اور اپنے لاپتہ عزیزوں کے کیسز کی تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔
لواحقین کے مطابق شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کو 8 اپریل کی رات کوئٹہ کے علاقے کلی خلی، مغربی بائی پاس سے مبینہ طور پر سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکار حراست میں لے گئے تھے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود دونوں افراد کو نہ کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی، تاہم رپورٹ درج نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے کیسز لاپتہ افراد کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے اٹھائے گی اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز بلند کرے گی۔

