بلوچستان کی سنگین صورتحال اور حکمران طبقے کا بیانیہ

نذر بلوچ قلندرانی

بلوچستان کے حکمران اور ریاستی ادارے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سیاسی و سماجی کارکنوں کی گرفتاری کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم اگر بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ زمینی حقائق اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر گرفتار افراد کی حراست کا دہشت گردی کے خاتمے یا امن کے قیام سے کوئی براہِ راست اور مؤثر تعلق دکھائی نہیں دیتا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے حملوں اور کارروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو حکومتی بیانیے اور عملی حقائق کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر واقعی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر زیرِ حراست کارکن صوبے میں بدامنی اور شورش کے بنیادی محرک ہوتے تو ان کی گرفتاری کے بعد حالات میں نمایاں بہتری آنی چاہیے تھی، مگر موجودہ صورتحال اس دعوے کی تصدیق کرنے کے بجائے اس پر مزید سوالات اٹھا رہی ہے۔

عمومی طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ خواتین فطری طور پر جنگ، تشدد اور مسلح تصادم سے گریز کرتی ہیں، اسی لیے ایک جنگجو عورت کا تصور غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بلوچستان میں بعض خواتین کا مسلح جدوجہد کی جانب مائل ہونا ایک پیچیدہ سماجی اور سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ رجحان کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کے جوابات محض سرکاری الزامات یا روایتی بیانیوں کے ذریعے تلاش نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے لیے ان سیاسی، سماجی، معاشی اور انسانی عوامل کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو اس راستے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

حال ہی میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو، جس میں بعض خواتین عسکری تربیت حاصل کرتی دکھائی دیتی ہیں، ایک تشویش ناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف یہ رجحان پرامن بلوچ خواتین کے لیے مزید مشکلات اور شکوک و شبہات کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بلوچ نوجوانوں اور خواتین کے ایک طبقے میں جذباتی وابستگی، ہمدردی اور حمایت کے رجحانات کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ ایسی صورتحال ریاست اور معاشرے، دونوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بی ایل اے کے مسلسل حملے اور اس نوعیت کا ابلاغی مواد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش اور مسلح سرگرمیوں کو صرف جبری گمشدگیوں کے متاثرین، سیاسی کارکنوں یا اس وقت قید و بند کا سامنا کرنے والے افراد سے منسوب کرنا ایک سادہ اور ناکافی تجزیہ ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سیاسی کارکن بنیادی طور پر سیاسی اور سماجی ذرائع سے اپنے مطالبات اور مؤقف کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں محض سکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا مسئلے کی پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو صرف سکیورٹی اور طاقت کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سیاسی، سماجی اور انسانی بنیادوں پر بھی سمجھا جائے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار بلوچ خواتین اور سیاسی کارکنوں کے مطالبات اور تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے، مکالمے اور سیاسی عمل کو فروغ دیا جائے، اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو ناانصافی، محرومی اور جبر کے احساسات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ کیونکہ پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے انصاف، شمولیت اور سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عالمی اور علاقائی سیاسی صورتحال کا جائزہ

اتوار جون 7 , 2026
تحریر: سید اصغر شاہ سربراہ ایس آر اے 1. ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا پس منظر:ستمبر 2023ء میں جی-20 (G-20) ممالک کا ایک اجلاس بھارت کے شہر دہلی میں ہوا تھا۔ اس اجلاس میں 10 ستمبر کو ایک نئی اقتصادی راہداری کی بنیاد رکھی گئی تھی، جس راہداری کا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ