تربت: پسنی روڈ سے ملنے والی لاش کی شناخت جبری لاپتہ یاور حبیب کے طور پر ہوئی

بلوچستان کے شہر تربت میں پسنی روڈ پر بانک چڑھائی کے قریب سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت یاور حبیب ولد حبیب، ساکن عومری کہن شاپک کے طور پر ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یاور حبیب کو 16 جون 2025 کو سہ پہر تقریباً تین بجے بلوچستان ہائی کورٹ تربت برانچ کے سامنے سے اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جب وہ ایک مقدمے میں پیشی کے لیے وہاں موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا میں ملوث افراد کا تعلق پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہ، جسے مقامی طور پر “ڈیتھ اسکواڈ” کہا جاتا ہے، سے تھا۔

لاش کو ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا، جہاں مقتول کے بھائی نے اس کی شناخت کی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کے سر اور پیٹھ پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جو قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یاور حبیب کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا اور سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیا گیا تھا، جس میں ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے بلوچ نوجوانوں کو اغوا کر کے پاکستانی فوج کے کیمپ پر منتقل کیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیں ہیں۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ