بلوچستان ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں جاری جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا ڈپٹی کمشنر کے دفتر سامنے جاری دھرنا پانچویں روز مذاکرات کے بعد ملتوی کردیا گیا ۔

بلیدہ سے لاپتہ کیے گئے 12 خاندانوں نے پانچ دنوں کے بعد ڈپٹی کمشنر کیچ کی آفس کے مرکزی گیٹ کے سامنے اپنا احتجاجی کیمپ ڈپٹی کمشنر کیچ ابراہیم اسماعیل کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل ڈی سی ہاوس میں ایک مزاکراتی ٹیم نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما صبغت اللہ شاہ جی اور عارف غلام کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر کیچ سے مزاکرات کیے ، ڈپٹی کمشنر کیچ نے متاثرہ خاندانوں کو احتجاج ختم کرکے تین دنوں میں انہیں لاپتہ افراد کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد احتجاجی کیمپ میں عارف غلام، صبغت اللہ شاہ جی،اسسٹنٹ کمشنر تربت حسیب شجاع اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خلیل مراد نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مزاکرات کی کامیابی کا اعلان کرتے دھرنا اور کیمپ ختم کرنے کا اعلان کیا۔
جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے ممبران نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اگلے تین دنوں میں بلیدہ سے جبری لاپتہ کیے گئے 12 خاندانوں کی بازیابی کے لیے اہم پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے اس لیے ہم اپنا احتجاج ختم کرکے واپس جارہے ہیں ۔
اگر تین دنوں میں انتظامیہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو ہمارا اگلا لائحہ عمل اس سے زیادہ سخت ہوگا۔

آپ کو علم ہے لواحقین 2 جون کو بلیدہ سے لانگ مارچ کرتے ہوئے تربت پہنچے جہاں انہوں نے 5 روز تک ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دے دیا اس دوران انھوں نے تربت میں ریلی نکالی اور جلسہ منعقد کیا ۔
دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شرکت رہی ، ان کا مطالبہ تھاکہ ان کے لاپتہ پیاروں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، اگر کسی پر الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے منصفانہ ٹرائل کیا جائے۔