
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے مقام دازن سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے جبکہ گوادر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمپ کے مقام دازن سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت سمیر بلوچ ولد ناصر کے نام سے ہوئی ہے، جو مند کے علاقے گوبرد کا رہائشی تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ 24 اکتوبر کی شب پاکستانی فورسز نے انہیں گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کرکے لاپتہ کردیا تھا۔ سات روز تک جبری گمشدگی کا شکار رہنے کے بعد گزشتہ روز ان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسی رات فورسز نے سمیر ناصر کے ہمراہ وسیم بلوچ ولد ستار، صغیر بلوچ ولد سوال محمد اور زہیر بلوچ ولد سوال محمد کو بھی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں نوجوان تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ ان کے حوالے سے اب تک کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
دوسری جانب گوادر کے علاقے جیونی، پانوان میں مبینہ طور پر مسلح ریاستی گروہ (ڈیتھ سکواڈز) کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق زخمی شخص کی شناخت محمد انور بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 14 اکتوبر 2026 کو بھی ایک مبینہ مسلح ریاستی گروہ نے مزدوروں پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔