بلوچ اور پشتون اقوام کے تاریخی رشتوں کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ناقابلِ قبول ہیں: فولاد خان کاکڑ بازئی

بلوچ اور پشتون اقوام کے تاریخی رشتوں کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ناقابلِ قبول ہیں

تحریر: فولاد خان کاکڑ بازئی

افغانستان کی سابقہ فوج کے نام پر جرائم پیشہ عناصر کو بلوچ قومی تحریک اور بلوچ عوام کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ایسے عناصر کی سرگرمیاں نہ صرف بلوچ عوام کی قومی جدوجہد اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اس کے ذریعے دو تاریخی، قدیم ہمسایہ اقوام، بلوچ اور پشتون کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی، قومی اور برادرانہ رشتوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلوچ اور پشتون اقوام کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق محض جغرافیائی ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ تاریخ، ثقافت، روایات، معاشرتی روابط اور باہمی احترام کی بنیادوں پر قائم ہے۔ دونوں اقوام نے مختلف تاریخی ادوار میں سامراجی تسلط، ریاستی جبر، قومی محرومی اور استحصال جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا کیا ہے۔ ان کے درمیان اختلافات یا غلط فہمیاں پیدا کرنا کسی بھی صورت میں دونوں اقوام کے اجتماعی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

ریاستی طاقتوں کی جانب سے مختلف ادوار میں ایسے عناصر اور گروہوں کو استعمال کرنے کی حکمت عملی سامنے آتی رہی ہے جن کے ذریعے محکوم اقوام کی قومی تحریکوں کو کمزور کیا جائے، ان کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے اور انہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جائے۔ اگر افغانستان کی سابقہ فوج سے وابستگی کے نام پر ایسے افراد کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے تو اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے اور اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے جرائم کو کسی پوری قوم یا سابقہ فوج کے تمام اہلکاروں سے منسوب کرنا بھی درست نہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ قومی تحریک اور پشتون قومی تحریک کے درمیان باہمی احترام، سیاسی شعور اور یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچ عوام کے قومی حقوق کی جدوجہد کو پشتون عوام کے خلاف اور پشتون عوام کے قومی حقوق کی جدوجہد کو بلوچ عوام کے خلاف استعمال کرنے کی ہر کوشش دونوں اقوام کے اجتماعی مفادات کے منافی ہے۔

بلوچ اور پشتون عوام کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان کے حقیقی مسائل کا حل ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے میں نہیں بلکہ قومی حقوق، سیاسی آزادی، جمہوریت، امن، سماجی انصاف اور استحصال سے نجات کے لیے مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں، ریاستی سرپرستی میں ہونے والی مبینہ کارروائیوں اور قومی تحریکوں کو آپس میں متصادم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان تاریخی بھائی چارے، باہمی اعتماد اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو سیاسی شعور اور اتحاد کے ذریعے ناکام بنانا دونوں اقوام کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

بلوچ اور پشتون دشمن نہیں، تاریخ کے ہمسفر اور خطے کے دو قدیم ہمسایہ عوام ہیں۔ ان کے درمیان نفرت اور تصادم نہیں بلکہ اتحاد، احترام اور بھائی چارے کے رشتے مضبوط ہونے چاہییں۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ