بی این ایم کے وفد کی اراکین یورپی پارلیمنٹ سے ملاقاتیں، پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کی مہم میں تیزی

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے خارجہ ڈیپارٹمنٹ کے ایک وفد نے 23 اکتوبر 2026 کو دی ہیگ میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان (ایم ای پیز) سے اہم ملاقاتیں کیں۔

تنظیم کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد جنوری 2027 میں متوقع جائزے سے قبل پاکستان کا جی ایس پی پلس تجارتی درجہ ختم کرانے کی مہم کو تیز کرنا تھا۔، یہ وفد بی این ایم کے ادارہ امور خارجہ کی جی ایس پی پلس احتساب ٹیم کے تحت کام کر رہا ہے۔

یہ ملاقاتیں یونین آف یورپین فیڈرلسٹس (یو ای ایف) نیدرلینڈز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ہوئیں، جو دی ہیگ میں واقع یوروپا ایکسپیرینس میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا موضوع تھا: ’’عالمی چیلنجز جن کا ہم مل کر سامنا کر رہے ہیں‘‘۔

تقریب کے دوران بی این ایم کے وفد نے یورپی پارلیمنٹ کی ارکان اینا اسٹروئلنبرگ اور راکیل گارسیا ہرمیدا فان ڈیر وال کے علاوہ ینگ یورپین فیڈرلسٹس (جے ای ایف) نیدرلینڈز کی صدر ایسٹر لائینز سے بھی ملاقات کی۔

بی این ایم کے مطابق ان کے وفد نے یورپی نمائندوں کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، بلوچ قوم کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد، اور پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

بی این ایم نے اس بابت اپنے آفیشل ویب سائیٹ پر کہا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مرکزی موضوع پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ تھا۔ وفد نے یورپی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو حاصل ترجیحی تجارتی مراعات ختم کرنے کی حمایت کریں۔ وفد کا مؤقف تھا کہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث کسی ملک کو جواب دہی کے مؤثر نظام کے بغیر تجارتی فوائد حاصل کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کے وفد نے بلوچستان میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم سے منسلک بین الاقوامی کنونشنز پر پاکستان کی عدم تعمیل کو دستاویزی شکل میں پیش کرنے والی ایک تفصیلی رپورٹ بھی یورپی نمائندوں کے حوالے کی۔

تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے بی این ایم کا شعبۂ خارجہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس مراعات کو چیلنج کرنے کے لیے ایک وسیع سفارتی مہم چلا رہا ہے۔ یورپی نمائندوں سے ملاقاتوں، باضابطہ دستاویزات جمع کرانے، شواہد پیش کرنے اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے بی این ایم نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو یورپی پالیسی سازوں کی توجہ میں لانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔

بی این ایم نے کہا ہے کہ جنوری 2027 میں پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کا جائزہ متوقع ہے، اور بی این ایم اس عرصے کو اپنی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیتی ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ یورپی یونین اس اسکیم کی شرائط پر پاکستان کی عمل داری کا جائزہ لیتے وقت اس کی تجاویز، شواہد اور جمع کرائی گئی دستاویزات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔

بی این ایم کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین کو ان انسانی حقوق کے اصولوں سے اپنی وابستگی برقرار رکھنی چاہیے جو اس کی تجارتی پالیسیوں کی بنیاد ہیں۔ تجارتی مراعات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جواب دہی سے بچنے کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ امور خارجہ یورپی اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط جاری رکھے گا، پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا، اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال تجارت اور جواب دہی سے متعلق یورپی یونین کے مباحثوں کا حصہ بنی رہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نیویورک: ایچ آر ایف کا ڈاکٹر ماہ رنگ کی مناسب طبی نگہداشت اور رہائی کا مطالبہ

اتوار اکتوبر 25 , 2026
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت بلوچستان کے ہُدہ جیل میں قید ہیں، جہاں سے انہوں نے ایک خط میں اپنی زندگی کے تجربات، والد کی یادوں، جیل میں گزرنے والے حالات اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کے بارے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ