
تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی ریلی سے قبل سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایف سی، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہید فدا چوک سمیت شہر کے اہم مقامات پر سیکیورٹی اہلکار موجود ہیں۔ شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ بعض راستوں پر نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بعض مقامی افراد کے مطابق اس مرتبہ سیکیورٹی انتظامات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں اور چیکنگ کے دوران شہریوں کو دشواری پیش آ رہی ہے۔ بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال جانے والی خواتین کے شناختی کارڈ چیک کیے جا رہے ہیں اور ان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہر میں معمول کی عوامی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو یا زیادہ افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے پر کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے، جبکہ پولیس پہلے ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ زون نے اپنی مرکزی قیادت کے خلاف عدالتی فیصلے کے خلاف آج احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ایس پی کی ہدایت پر شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ مقامی ذرائع کے مطابق آج تربت میں سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت ہیں۔

