
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6409ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ نعمت اللہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا 2016 سے جبری طور پر لاپتہ ہے۔ کمیشن کی سطح پر ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی ثابت ہونے کے بعد کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز نے ان کی بازیابی کے حوالے سے پروڈکشن آرڈر جاری کیا، تاہم اس کے باوجود نہ تو ان کے بیٹے کو منظر عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی خاندان کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے اہلِ خانہ شدید کرب اور اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز سے مطالبہ کیا کہ وہ نعمت اللہ سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائے اور متعلقہ حکام کو قانونی تقاضوں کے مطابق ان افراد کو منظر عام پر لانے اور ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کا پابند بنائے۔
