بی بی بانڑی سے بی بی بلقیس عرف الماس تک: بلوچ مزاحمت میں عورت کا کردار

بی بی بانڑی سے بی بی بلقیس عرف الماس تک: بلوچ مزاحمت میں عورت کا کردار

تحریر: شولان بلوچ

بچپن میں جب بھی ہم بزرگوں کی محفلوں میں بیٹھتے تھے تو ایک نام جو اکثر ہمارے کانوں میں سنائی دیتا تھا، وہ تھا بی بی بانڑی شیہک کا۔ ہمارے بزرگ جب بھی انہیں یاد کرتے تو فخر سے ان کے سر بلند ہو جاتے، کیونکہ ہم بلوچ ہیں اور بلوچ تاریخ میں بانڑی جیسی خواتین کے کردار موجود رہے ہیں، جنہوں نے زبان، ننگ و ناموس کی پاسداری کرتے ہوئے ’’چوسہ‘‘ جیسی تاریخی جنگوں میں حصہ لیا۔

بچپن ہی سے میں بانڑی نامی خاتون سے بہت متاثر تھا، کیونکہ اس وقت میرا تصور یہی تھا، جسے میری کم شعوری بھی کہا جا سکتا ہے، کہ عورت صرف گھر کے کام کاج ہی کرتی ہے۔ ایسے میں ایک ایسی خاتون کے بارے میں سننا، جس نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا اور ایک کمانڈر کی حیثیت سے جنگی پالیسیاں مرتب کیں، یقیناً میرے لیے حیرت اور فخر کا باعث تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے بارے میں سن کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ جب میں بڑا ہوتا گیا اور بلوچ تاریخ کو پڑھنا اور لکھنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ بلوچ تاریخ میں ہزاروں ایسی خواتین کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے جنگ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا، جب بھی قومی شناخت اور بلوچی روایات کو ان کی ضرورت پیش آئی۔

یہ سب تاریخی واقعات تھے، جن کے بارے میں میں نے صرف پڑھا تھا۔ میں نے چوسہ کی جنگ میں بی بی بانڑی کی بہادری کے قصے پڑھے تھے اور گل بی بی اور بی بی مہناز کے قصے بھی سنے اور پڑھے تھے۔ ان جیسی شخصیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش ہمیشہ میرے دل میں رہی ہے۔

جب 1948ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور بلوچستان پاکستان کے زیرِ اقتدار آیا تو بلوچوں کی روایات اور اقدار کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں، جن میں خواتین کے حقوق بھی شامل تھے۔ بلوچ خواتین کو محدود کرنے اور انہیں گھروں تک محصور رکھنے کی پالیسیوں کو بھی فروغ دیا گیا۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ہم الجزائر پر فرانسیسی قبضے کی مثال لے سکتے ہیں۔

فرانز فینن اپنی کتاب ’’سامراج کی موت‘‘ میں فرانسیسی استعمار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تو اس نے اپنی حاکمیت منوانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ الجزائر میں خواتین کو ایک اہم سماجی مقام حاصل تھا اور انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ فرانسیسی استعمار نے اس سماجی ڈھانچے کو متاثر کرنے اور اپنی حاکمیت مضبوط کرنے کے لیے خواتین کی حیثیت اور مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ بلوچ خواتین کے حوالے سے بھی ایسی ہی صورتِ حال کا ذکر کیا جاتا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کسی بھی قوم کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہوتی ہے۔ خواتین کو مزاحمت سے دور رکھنا اور آزادی کی جدوجہد کو صرف مردوں کا مسئلہ سمجھنا کسی بھی قوم کی اجتماعی قوت کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس کی دوسری اہم وجہ خاندان اور بچوں کی تربیت ہے۔ ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں بہت کچھ اپنی ماں سے سیکھتا ہے۔ اگر کوئی بچہ ایسے ماحول میں پرورش پائے جہاں مزاحمت، نسلوں کی قربانیوں اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کی روایات موجود ہوں تو اس کی ذہنی نشوونما پر بھی ان روایات کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی گھر میں ظلم و جبر کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کو معمول سمجھا جائے تو بچے کی سوچ اور رویوں پر اس کے مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنی حاکمیت مضبوط کرنے اور بلوچستان کے وسائل پر اختیار برقرار رکھنے کے لیے ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے حلقوں کے مطابق، خواتین کو سیاسی اور سماجی جدوجہد سے دور رکھنے کی کوششیں بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہییں۔ تاہم بلوچ خواتین نے مختلف ادوار میں سیاسی، سماجی اور قومی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کیا اور خواتین کو محدود رکھنے کے رجحانات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

1948ء سے 2022ء تک کے عرصے میں بلوچ خواتین کا کردار صرف مسلح جدوجہد تک محدود نہیں رہا۔ ماؤں کی حیثیت سے انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی، بہنوں کی حیثیت سے اپنے بھائیوں کا ساتھ دیا اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ تمام پہلو بلوچ معاشرے میں خواتین کی تاریخی اور سماجی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان نمایاں شخصیات میں ایک اہم نام ’’لمہ بانک کریمہ‘‘ کا ہے، جنہوں نے مختلف شعبوں میں بلوچ خواتین اور بلوچ قوم کی نمائندگی کی۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک بلوچ سیاسی جدوجہد سے وابستہ رہیں اور ’’لمۂ وطن‘‘ کے لقب سے یاد کی گئیں۔

اس کے بعد اپریل 2022ء میں بلوچ مزاحمتی تاریخ میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ اس وقت ایک تعلیم یافتہ خاتون، جس کی شناخت ’’لمہ شاری‘‘ کے نام سے سامنے آئی، نے کراچی یونیورسٹی کے قریب چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایک خودکش حملے میں حصہ لیا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ نے قبول کی۔ اس واقعے کے بعد بلوچ مزاحمتی تحریک میں خواتین کی مسلح شرکت ایک نئے اور زیادہ نمایاں مرحلے میں داخل ہوئی۔

اس کے بعد بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے مختلف نام سامنے آئے، جن میں گودی ماھل، گودی سمیہ اور بی بی زرینہ رفیق وغیرہ شامل ہیں۔ ان واقعات نے بلوچ مزاحمتی تحریک میں خواتین کے کردار کو مزید نمایاں کیا اور اس موضوع پر سیاسی و سماجی سطح پر بحث کو جنم دیا۔

بعد ازاں ’’آپریشن ہیروف 2‘‘ کے دوران بھی خواتین کی مسلح شرکت کے واقعات سامنے آئے۔ اس سلسلے میں بی بی ھتم ناز، بی بی بانڈی، مریم بزدار، بی بی ھوا اور بی بی آسمہ کے نام لیے جاتے ہیں۔ ان خواتین کی شرکت نے بلوچ مزاحمتی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور تحریک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے بحث کو مزید وسعت دی۔

یہ سب اس سلسلے کا آغاز تھا، کیونکہ بلوچ خواتین کی سیاسی اور مسلح جدوجہد کے حوالے سے مزید تبدیلیاں سامنے آنا باقی تھیں۔ خواتین کو منظم انداز میں کردار ادا کرنے کے مواقع دینے اور انہیں جدوجہد میں جگہ فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف حکمتِ عملیوں پر عمل کیا گیا۔

اسی تناظر میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے ’’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘‘ (کاڈ) کے قیام کا ذکر کیا جاتا ہے، جسے بلوچ تاریخ میں خواتین پر مشتمل ایک خصوصی دستے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف کارروائیوں اور ناکہ بندیوں میں اس دستے سے وابستہ خواتین کی شرکت کے دعوے سامنے آئے، جن میں بلوچستان کے مختلف علاقے شامل تھے۔

ان واقعات میں گوادر کا آپریشن ’’الماس‘‘ بھی شامل ہے، جس میں کاڈ سے وابستہ خواتین کی شرکت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے حوالے سے بی ایل ایف کی آپریشن کمانڈر بی بی بلقیس، جنہیں ’’الماس‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، کا نام سامنے آیا۔ اسی نسبت سے اس آپریشن کو ’’الماس‘‘ کا نام دیے جانے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کو بلوچ مزاحمتی تاریخ میں خواتین کی شناخت اور ان کے کردار کے حوالے سے ایک علامتی حیثیت حاصل ہے۔

بی بی الماس کی شخصیت اور ان سے منسوب واقعات نے ایک بار پھر بلوچ تاریخ کی اس روایت کی یاد تازہ کی، جس میں خواتین کو قومی اور اجتماعی جدوجہد کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ بی بی بانڑی شیہک سے لے کر بی بی بلقیس، حرفِ الماس تک، ان دونوں شخصیات کے درمیان زمانے کا ایک طویل فاصلہ موجود ہے، لیکن ان کے ناموں کو بلوچ تاریخ میں خواتین کے کردار اور مزاحمت کی علامتوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ایک طرف بی بی بانڑی شیہک کا تاریخی کردار ہے، جن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے چوسہ کی جنگ میں قیادت کی، اور دوسری طرف بی بی بلقیس عرف الماس، کا نام ہے، جنہیں جدید بلوچ مزاحمتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔ ان دونوں شخصیات کا تقابل اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بلوچ تاریخ میں خواتین کی شرکت کسی ایک دور یا ایک شعبے تک محدود نہیں رہی۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ آج بھی جاری رہا

پیر نومبر 2 , 2026
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6407ویں روز بھی جاری رہا۔ وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم کی طویل، پرامن اور انسانی حقوق پر مبنی جدوجہد کا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ