
کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 11 جولائی 2024 کو جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکالی گئی پرامن ریلی کے سلسلے میں ان کے خلاف درج مقدمات میں 12 سے زائد سماعتیں ان کی لاعلمی میں ہو چکی ہیں، جبکہ انہیں کسی بھی سماعت کے حوالے سے نہ تو سمن جاری کیا گیا اور نہ ہی قانونی طور پر آگاہ کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد ان مقدمات سمیت دو ایف آئی آرز واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے بقول مقدمات تاحال برقرار ہیں اور ان پر عدالتی کارروائی بھی جاری ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کبھی روپوش یا مفرور نہیں رہے بلکہ مسلسل عوامی سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں اور روزانہ وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ان کی غیر موجودگی میں مقدمات کی سماعت جاری رکھنا شفاف قانونی عمل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ مقدمات کی موجودہ قانونی حیثیت واضح کی جائے، قانونی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کے آئینی حقِ احتجاج، آزادیِ اظہار اور منصفانہ سماعت کے حق کا احترام کیا جائے۔