
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے جون 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی فورسز، استعماری دفاعی اور معاشی تنصیبات اور مواصلاتی نظام پر حملوں کا سلسلہ انتہائی شدت اور غیر معمولی عزم کے ساتھ جاری رکھا۔ ان اچھی طرح سے منظم اور مربوط کارروائیوں کا دائرہ کار نال، گوادر، مند، بلیدہ، نوشکی، شاہرک، دشت، پنجگور، سوراب، قلات، تربت، بارکھان، تمپ اور ہوشاب سمیت 14 مختلف علاقوں تک پھیلا رہا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد مقبوضہ بلوچستان میں قابض ریاست کے استعماری ڈھانچے کو مفلوج کرنا، وسائل کی استحصال کو روکنا، اور قابض ریاست کی عسکری گرفت و عمل داری کو جڑوں سے اکھاڑ کر ختم کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جون کے مہینے میں دشمن کے خلاف مجموعی طور پر 25 مسلح کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں خضدار کے علاقے نال شہر کا تاریخی تزویراتی آپریشن بھی شامل ہے۔ بی ایل ایف کے ان منظم ضربات کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 58 عسکری اہلکار ہلاک اور 11 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ تحریک آزادی کے خلاف مخبری کے نیٹ ورک چلانے والے دشمن کے 4 کلیدی آلہ کاروں اور ایجنٹوں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ سرزمین کے دفاع اور قومی آزادی کی اس عظیم جنگ میں دشمن کی افواج کے خلاف ان کاروائیوں میں دلیری سے لڑتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 5 جانباز سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ تزویراتی لحاظ سے اس ماہ کی سب سے منظم، مربوط اور اہم ترین بڑی کارروائی نال شہر پر کنٹرول حاصل کرنے، وہاں عسکری، مواصلاتی اور استحصالی معاشی اہداف کو نشانہ بنانے کی ایک خاص آپریشن کی صورت میں سرانجام دی گئی۔ سرمچاروں نے نال شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے وہاں قائم لیویز اور پولیس تھانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ سرمچاروں کی پیش قدمی روکنے کے لیے آنے والے دشمن کے 2 گن شپ ہیلی کاپٹروں کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر مار گرایا گیا۔ اس تاریخی معرکے میں قابض فوج کے 33 اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ، دشمن کے سپلائی اور رسد کے نظام کو منقطع کرنے کے لیے بڑی شاہراہوں پر 4 مختلف مقامات پہ سرمچاروں نے ناکہ بندیاں قائم کر کے کنٹرول حاصل کیا۔ اس دوران دشمن کے دو متحرک فوجی قافلوں کو گھات لگا کر جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔ عسکری پیش قدمی کو برقرار رکھتے ہوئے سرمچاروں نے دشمن کے 3 بڑے فوجی کیمپوں اور 5 اہم فوجی چیک پوسٹوں پر بھی مربوط حملے کیے۔
بی ایل ایف نے کہا کہ تکنیکی، مواصلاتی اور مادی محاذ پر قابض کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے سرمچاروں نے نگرانی کے جدید آلات کو نشانہ بنایا۔ فضا میں دشمن کی جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے 2 ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ زمینی نگرانی کے لیے نصب کردہ 3 جدید کیمرے اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے 5 موبائل ٹاورز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ مادی و عسکری محاذ پر کارروائیوں اور دھماکوں کے دوران قابض فوج کی 11 چھوٹی و بڑی عسکری گاڑیاں تباہ کی گئیں، جبکہ نال شہر کے کامیاب معرکے اور دیگر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پسپا ہونے والے دشمن کے اہلکاروں سے 19 جدید ہتھیار اور دیگر عسکری ساز و سامان قبضے میں لے کر ضبط کر لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ عسکری کارروائیوں میں تنوع اور جنگی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 5 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، 5 بار آئی ای ڈی (IED) ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کیے گئے، اور 5 مرتبہ منظم طور پر گھات لگا کر حملے سرانجام دیے گئے، جبکہ 3 بار گرنیڈ لانچر کی مدد سے دشمن کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ متنوع اور مہلک حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشمن کے خلاف کاروائیوں میں شہید ہونے والے تمام قومی شہداء کو ان کی لازوال قربانی پر سلام اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ شہداء کا مشن بلوچستان کی کامل آزادی تک جاری رہے گا۔

