
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی، خصوصاً سوئی شہر اور اس کے نواحی علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے متعدد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں پاکستانی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق سوئی شہر سے حالیہ دنوں میں مزید تین افراد نبی بخش ولد محوت بگٹی، نبی بخش عرف لایوں ولد بنا بگٹی اور عثاما عرف نادو ولد نیک محمد بگٹی کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران اسی قبیلے کی ذیلی شاخ سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
اسی دوران سوئی کے علاقے پٹ فیڈر سے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے گلمیر ولد بند علی بگٹی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جبکہ 7 اپریل کو محمد کالونی سے کریم ولد رحیم بخش بگٹی اور 9 اپریل کو صدیق ولد نظر علی بگٹی کو بھی سی ٹی ڈی کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مزید برآں، ایک 65 سالہ خاتون، جو شاہل ممدازی بگٹی کی اہلیہ بتائی جاتی ہیں، کو بھی پِرکوہ ٹاؤن سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی ٹاؤن سے مزید نو افراد کو سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کے دوران حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جن میں ارباز ولد اکرم خان بگٹی، قاسم علی ولد لیمو خان بگٹی، جبار خان ولد حیات بگٹی، متین ولد حیات بگٹی، سجاد ولد بلال بگٹی، امین ولد نور دین بگٹی، رہزان ولد داد محمد بگٹی، دین محمد ولد رحیم بخش بگٹی اور دوست علی ولد ملوک بگٹی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ضلع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ مقامی ذرائع اس کارروائی کو علاقے میں جاری تیل و گیس منصوبوں اور ممکنہ فوجی آپریشن سے جوڑ رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
