
بلوچستان حکومت نے ضلع قلات کے پہاڑی علاقے شور پارود میں آباد تقریباً 5 ہزار خاندانوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کردی ہے، دوسری جانب پسنی کے مختلف علاقوں کے مکینوں کو حکومت نے نقل مقانی پر مجبور کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قلات کے علاقے شور پارود میں آباد ان خاندانوں میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد شامل ہیں۔
حکومت بلوچستان کے مطابق ان خاندانوں کو مخصوص کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو رضاکارانہ طور پر علاقے سے نکل کر کیمپوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔
محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 30 اکتوبر علاقہ خالی کرنے کی آخری تاریخ ہے اور مقررہ مدت تک رضارانہ نقل مکانی نہ کرنے والے خاندانوں کے خلاف جبری بے دخلی کی کارروائیاں شروع کی جائینگی۔
محمد حمزہ شفقات نے بلوچستان وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو اور وزیراعلیٰ کے معاون شاہد رند کے ہمراہ کوئٹہ میں منعقد اس پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس جبری منتقلی کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
حکام نے کہا کہ شور پارود سرکاری زمین ہے اور علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کے پیش نظر آپریشن کیا جائے گا، جس کے باعث وہاں آباد خاندانوں کو کیمپوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی خدشات اور ریاست مخالف سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پاکستانی فورسز نے شادی کور کے علاقے گورستانی اور تراتی کی آبادیوں کو خالی کرا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقامی آبادیوں کو علاقہ خالی کرنے کی لئے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد مذکورہ علاقوں میں پیش قدمی کررہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صوبائی حکومت نے پاکستانی فورسز کے احکامات پر نوشکی کے متعدد علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
اسی طرح رواں سال اپریل میں پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سوراب میں شہریوں کو نقل مکانی کا حکم دیا تھا، تاہم شہریوں کے انکار پر 25 سے زائد افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔