بلوچستان میں جبر، بیانیہ اور قومی مزاحمت

تحریر: ناصر بلوچ، فنانس سیکریٹری، بلوچ نیشنل موومنٹ ا

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں تسلسل سے جاری ہیں، اور اب یہ حالت ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ پاکستانی فوج و فوج سے منسلک ادارے بے لگام ہوکر جس کو چاہے اٹھالیتے ہیں، غائب کرتے ہیں، خفیہ زندانوں میں اذیت رسانی سے قتل کرکے لاش پھینک دیتے ہیں اور ایک بڑی تعداد لاپتہ ہی رکھاجاتا ہے، گزشتہ چھبیس برسوں میں جبری گمشدگیوں کا دائرہ سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں افراد تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فوج اور بلوچستان کی کٹھ پتلی اسمبلی کے "فوجی” نمائندے ان واقعات کو إقرار و انکار کے درمیان رکھ کر إقرار بھی کر رہے ہیں کہ فوج لوگوں کو اٹھا رہی ہے، جبری لاپتہ کر رہی ہے لیکن قومی تحریک کوشش کے باوجود یہ عالمی سطح پر بڑی خبر بننے سے اب تک کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی محکوم یا مقبوضہ قوم نے اپنے قومی و سیاسی مستقبل کے تعین اور آزادی کا مطالبہ کیا تو قابض قوتوں نے اس مطالبے کو کمزور کرنے کے لیے مختلف بیانیے اختیار کیے۔ ایسی تحریکوں کو کبھی بیرونی طاقتوں کا آلہ کار کہا گیا، کبھی پراکسی جنگ قرار دیا گیا اور کبھی انہیں دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرزِ عمل کا مقصد اکثر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اصل سیاسی مطالبات سے توجہ ہٹا کر محکوموں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز ثابت کیا جا سکے۔

بلوچستان میں بھی اسی نوعیت کا بیانیہ اختیار کیا جا چکا ہے۔ پاکستان، بلوچ سرزمین، بلوچ وسائل اور بلوچ ساحل پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کو مختلف بیرونی قوتوں سے منسوب کرتا ہے۔ اپنی قومی شناخت، سرزمین اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بہت سے افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی قوم کی سیاسی مطالبات اور مستقبل کا فیصلہ آخر کن بنیادوں پر فوجی ادارے یا وہ سیاسی نمائندے کر سکتے ہیں جن کی نمائندگی خود متنازع ہے یا وہ محض فوجی و عسکری مہرے ہوں۔

پاکستانی ریاست نے مختلف ادوار میں ان عوامی حمایت رکھنے والے بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غداری کے الزامات، فوجی مقدمات اور ریاستی دباؤ کا شکار بنایا جبکہ ایسے عناصر کو آگے لایا گیا جو ریاستی و عسکری اداروں کی زبان بولتے ہوں۔ موجودہ بلوچستان کے کٹھ پتلی اسمبلی اور اس کے وزرا اسی عسکری حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ اسی لیے آج بلوچستان کے حقیقی سیاسی نمائندے ریاستی اسمبلیوں کے بجائے تحریک آزادی کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 1948 کے بعد پاکستان کے ساتھ رہنے کا تجربہ ان کے بنیادی قومی اور سیاسی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوا۔ بلوچ سیاست کے مختلف ادوار میں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، بالاچ مری اسمبلیوں کے حصے بنے، لیکن بلآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ قومی سوال کا حل بلوچ عوام کے پاس ہے نہ کہ پاکستان کے اسمبلیوں میں، یہ سیاسی موقف کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے کے اندر بلوچ قومی مسئلے کا مؤثر حل ممکن نہیں، آج بلوچ قوم میں مقبول نظریہ بن چکا ہے۔

آج بلوچ قوم اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں، آج بلوچ قوم اس فیصلے کا اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ پاکستان سے آزادی ہی بلوچ قومی مسئلے کا حل ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر تمام راستے بلوچ قومی شناخت، تشخص اور سیاسی وجود کے خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں، یہ اس جدید دور میں بلوچ قوم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ