ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا دینے پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی مذمت، فوری رہائی کا مطالبہ

وکلا کے تحفظ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی سول سوسائٹی تنظیموں نے پاکستانی انسانی حقوق کے معروف وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت 10 سال اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت تین سال قید کی سزا سنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں تنظیموں نے کہا کہ دونوں وکلا کو سنائی گئی سزائیں ان کے خلاف فوجداری نظام انصاف کے مسلسل مبینہ غلط استعمال میں ایک اہم شدت کی علامت ہیں۔ اس اقدام سے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو انسانی حقوق کے لیے جائز قانونی سرگرمیاں انجام دینے والے وکلا کو سزا دینے اور خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے پر سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق 29 اکتوبر کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 (ایچ) اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 186 اور 353 کے تحت تین الزامات میں سزا سنائی۔ ان میں سرکاری اہلکار کو اس کے قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے دھمکانے یا دباؤ ڈالنے، سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری اہلکار کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے لیے تشدد یا مجرمانہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات شامل تھے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 کے ایک واقعے سے متعلق ہے، جب دونوں وکلا پر الزام تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں دورہ کرنے والی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے دوران سڑک پر لگائی گئی سکیورٹی رکاوٹیں ہٹائی تھیں۔ عدالت نے دونوں کو 10 سال قید کی سزا سنانے کے ساتھ مجموعی طور پر دو لاکھ پاکستانی روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ مختلف دفعات کے تحت سنائی گئی قید کی سزائیں بیک وقت جاری رہیں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 29 اکتوبر کو اس وقت فیصلہ سنایا جب دونوں وکلا نے 26 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کر رکھی تھی، تاہم سپریم کورٹ میں ان کی درخواست پر سماعت نہیں ہوئی۔ تنظیموں کے مطابق ایسے حالات میں فیصلہ سنایا جانا منصفانہ ٹرائل اور مؤثر قانونی داد رسی کے حق سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں نے مقدمے کی سماعت کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اندر قائم عدالت میں سماعت منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں پر پوری نہیں اتری۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وکلا کو سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں پنجرے نما حصے میں رکھا گیا، جس کے باعث انہیں اپنے وکلا اور عدالت سے مؤثر رابطے میں مشکلات پیش آئیں۔ ان کے وکلا نے یہ بھی شکایت کی کہ انہیں دفاع کی تیاری کے لیے دونوں ملزمان تک مناسب رسائی نہیں دی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ نے الزامات ثابت کرنے کے لیے بنیادی طور پر پولیس اہلکاروں کی گواہی پر انحصار کیا، جبکہ دفاع کو استغاثہ کے شواہد پر مؤثر انداز میں جرح اور سوالات اٹھانے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ دونوں وکلا نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مقدمہ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور پُرامن انسانی حقوق کی جدوجہد کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تنظیموں نے کہا کہ محض سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کے مبینہ واقعے پر انسدادِ دہشت گردی کے وسیع قوانین کا اطلاق الزامات کی قانونی تناسبیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ایسے قوانین کو من مانے یا غیر متناسب انداز میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی انہیں پُرامن سرگرمیوں یا جائز پیشہ ورانہ کام کو جرم قرار دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مشترکہ بیان میں دونوں وکلا کے خلاف سابقہ مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 17 ستمبر 2026 کو سپریم کورٹ نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) 2016 کے تحت سنائی گئی 17 سالہ سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت دی تھی۔ یہ سزائیں سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف پوسٹس، فوج پر تنقید اور بلوچ و پشتون کارکنوں سے اظہارِ یکجہتی سے متعلق تھیں۔ تاہم، دونوں وکلا کی رہائی سے قبل ہی اسی روز حکام نے انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 2025 کے ایک احتجاج سے متعلق مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا اور 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

بیان کے مطابق احتجاج کے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست پر بار بار سماعت مؤخر کی گئی اور بالآخر سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد اس پر سماعت ہوئی۔ دونوں وکلا کو بالآخر 3 نومبر کو احتجاج کے مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

تنظیموں کا کہا تھا کہ یکے بعد دیگرے مقدمات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود طویل عرصے تک آزادی سے محرومی کے واقعات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ دونوں وکلا کو مثال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے پاکستان میں وکلا کی خودمختاری اور انصاف تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

مشترکہ بیان میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق فراہم کرتا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کا بھی فریق ہے، جس کے تحت گرفتاری اور حراست کے خلاف تحفظ، منصفانہ سماعت، اپنی پسند کے وکیل تک رسائی، آزادی اظہار اور پُرامن اجتماع کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔

تنظیموں نے اقوام متحدہ کے وکلا کے کردار سے متعلق بنیادی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وکلا کو دھمکیوں، ہراسانی اور غیر ضروری مداخلت کے بغیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ وکلا کو اپنے مؤکلوں یا ان کے مقدمات سے متعلق مؤقف کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے جبری گمشدگیوں، حراستی تشدد، توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کی قانونی نمائندگی کی ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر گرفتاری، مقدمات یا طویل حراست نہ صرف ان کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہے بلکہ دیگر وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے بھی خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرتی ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان زینب مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، وکلا کے پیشے کی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور انہیں بغیر کسی دھمکی، انتقامی کارروائی یا غیر ضروری مداخلت کے اپنے پیشہ ورانہ فرائض اور بنیادی انسانی حقوق استعمال کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جعفرآباد: غیرت کے نام پر 2 افراد قتل

جمعہ نومبر 6 , 2026
بلوچستان کے علاقے جعفرآباد میں غیرت کے نام پر شوہر نے بیوی سمیت دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع واردات سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق جعفرآباد ڈیرہ اللہ یار کے قریب پولیس تھانہ حفیظ اباد جمالی کی حدود گوٹھ لطیف میں شاہ محمد نامی شخص […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ