
اسلام آباد: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا ریجن نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی کور کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سید بی بی بلوچ اور صحافی احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام انتظامی حراست کے قوانین کو پُرامن اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ بیان کے مطابق زبیر شاہ آغا کو 28 جون کو کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکت کے بعد حراست میں لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زبیر شاہ آغا کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری پاکستان میں کارکنان، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتظامی حراست کے اختیارات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی تازہ مثال ہے۔
ایمنسٹی کے مطابق سید بی بی بلوچ کو بھی یکم جولائی کو تربت میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے خلاف اعلان کردہ پُرامن احتجاج سے قبل ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 20 جون کو صحافی احمد فرہاد کو بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے علاقے باغ میں ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا، جہاں وہ تاحال زیرِ حراست ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکام زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کو فوری طور پر رہا کریں، انتظامی حراست کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا خاتمہ کریں اور آزادیِ اظہار، پُرامن اجتماع اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔
